احمدآباد،17؍جنوری (ایجنسی) وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے بین الاقوامی کارگزار صدر پروین توگڑیا نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی کے ’باس‘ کے اشارے پر گجرات کرائم برانچ انہیں بدنام کرنے کی سازش تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ سنجے جوشی کی سی ڈی کس نے بنائی تھی اور وقت آنے پر وہ اس کا انکشاف بھی کریں گے۔توگڑیا کو بروزچہارشنبہ اسپتال سے چھٹی مل گئی جس کے بعد انہوں نے ایک اخباری کانفرنس میں اپنی بات لوگوں کے سامنے رکھی۔ قابل ذکر ہے کہ توگڑیا بروز پیر حیرت انگیز طریقے سے غائب ہو گئے تھے اور بوقت شام احمد آباد کے شاہی باغ علاقہ میں واقع پارک میں بے ہوش ملے تھے جس کے بعد انھیں شہر کے چندر منی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد بروز منگل بھی انھوں نے پریس کانفرنس کر کے الزام عائد کیا تھا کہ راجستھان پولس ان کا انکاؤنٹر کرنا چاہتی ہے جو ان کے خلاف سازش کا حصہ ہے۔آج انھوں نے تازہ اخباری کانفرنس میں کہا ’’نقلی ویڈیو بنا کر مجھے بدنام کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ مجھے گجرات کی پولس پر فخر ہے لیکن مجھ پر داغ لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسی کوشش کرائم برانچ اور احمد آباد کے جوائنٹ پولس کمشنر جے کے بھٹ کر رہے ہیں۔ وہ میرے خلاف سازش تیار کر رہے ہیں۔ راجستھان پولس نے میرے خلاف کیس رَد کر دیا ہے۔ سنجے جوشی کی سیکس سی ڈی کس نے بنائی تھی، یہ مجھے معلوم ہے اور میں وقت آنے پر سب کچھ بتاؤں گا۔ بھٹ کی اِن کمنگ اور آؤٹ گوئنگ کال ڈیٹیل سامنے لائی جائے۔ وزیر اعظم کے ساتھ ان کی بات ہوئی ہے تو اسے بھی واضح کیا جائے۔بھٹ دہلی کے سیاسی باس کے اشارے پر ناچ رہے ہیں اور حب الوطن کارکنوں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ میں کرائم برانچ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے جا رہا ہوں۔ کرائم برانچ نے رات دو بجے مجھے اٹھایا تھا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ توگڑیا کے خلاف راجستھان کے سوائی مادھو پور ضلع کے گنگا پور سیشن کورٹ میں تقریباً 10؍سال قدیم انتظامیہ کے ذریعہ نافذ کرفیو کی خلاف ورزی کا معاملہ درج ہے۔ ان کے خلاف اس معاملے میں غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا تھا اور اسی لئے وہاں کی پولس پیر کے روز صبح تقریباً10:00؍بجے سولا علاقے میں توگڑیا کے گھر پہنچی تھی۔ اس کے بعد ہی وہ حیرت انگیز طور پر غائب ہو گئے تھے۔ اسی دوران دلت رہنما اور گجرات کے رکن اسمبلی جگنیش میوانی نے کہا ہے ’’مجھے ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ مجھے راستہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ مجھے بھی مار سکتے ہیں۔‘‘
آر ایس ایس اور بی جے پی میرا بھی قتل کرواسکتے ہیں؛ دلت لیڈر جگنیش میوانی کابھی اظہار خوف
وی ایچ پی لیڈر پروین توگڑیا کے انکاؤنٹر والے بیان کے بعد دلت لیڈر اور گجرات کے وڈگام سے رکن اسمبلی جگنیش میوانی نے بھی اپنی جان کو بی جے پی اورآر ایس ایس سے خطرہ بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس والے انھیں راستہ سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
جگنیش نے ایک انگریزی اخبار سے بات چیت کے دوران اپنے اس ڈر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ میرے من میں بھی وی ایچ پی لیڈر پروین توگڑیا کی طرح ڈر ہیکہ کچھ لوگ میرا قتل کر واسکتے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ مجھے مروا سکتے ہیں۔ مجھے ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ مجھے راستہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔‘‘قابل غور بات یہ ہے کہ جگنیش کے حامی کافی وقت سے ان کے لئے ’وائی‘ زمرے کی سکیورٹی مہیا کرانے کا مطالبہ انتظامیہ سے کرتے رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوا ہے۔ اس زمرے میں شامل شخص کے ارد گرد 11 سیکورٹی گارڈ ہوتے ہیں جن میں8؍کمانڈو رہتے ہیں۔ راشٹریہ دلت ادھیکار منچ نے اس سلسلے میں بتایا کہ میوانی کو سکیورٹی مہیا کرنے کے مطالبہ پر تنظیم کی جانب سے مختلف مقامات پر انتظامیہ کو 30؍ درخواستیں دی گئی ہیں۔اب جب کہ جگنیش میوانی نے خود اپنے خلاف قتل کی سازش تیار کیے جانے کا اندیشہ ظاہر کر دیا ہے تو ان کے حامیوں میں بھی پریشانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ راشٹریہ دلت ادھیکار منچ سے متعلق کارکنان زبانی طور پر ان کی سیکورٹی سخت کرنے کا مطالبہ ایک بار پھر کرنے لگے ہیں۔ ساتھ ہی سیاسی گلیاروں میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف یہ سوال بھی اٹھنے لگے ہیں کہ کیا وہ اپنے مخالفین کو راستہ سے ہٹانے کے لئے قتل کرانے میں یقین رکھتی ہیں؟ اور یہ بھی کہ کیا ہرین پانڈیا اور سنجے جوشی کی جو حالت ہوئی اس میں بی جے پی کا ہی ہاتھ تھا؟